کالمز
08 May 2026
دانشوروں کی چاپلوسی
فرحت حسین ملک
دادی بناہ کھوئیرٹہ، آزاد کشمیر جیسے حسین خطے میں آج مسائل کے انبار لگ چکے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ وادی بناہ سیاسی طور پر اس قدر تقسیم ہو چکی ہے کہ برادری، تعلقات اور ذاتی مفادات کو برقرار رکھنے کی خاطر یہاں کے دانشور مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دانشوروں کی بیشتر تحریریں اور سوشل میڈیا پوسٹس مبارکبادوں، خوشامد اور جی حضوری تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ جہاں خطے کو سڑکوں، صاف پانی، صفائی، بجلی اور بہتر انفراسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، وہاں محض سیاسی بیان بازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہ بحث عام ہے کہ کس سیاسی جماعت نے کس کو للکارا، مگر اصل مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ صحافتی اور وی لاگر کمیونٹی بھی تعلقات نبھانے میں مصروف نظر آتی ہے، جبکہ خطے کی ہر باشعور آواز ذاتی وابستگیوں کی وجہ سے سوال اٹھانے سے گریزاں ہے۔
یاد رکھیں، تعلق رکھنا بری بات نہیں، لیکن جو کام حکومت یا عوامی نمائندے کر سکتے ہیں، وہ عام عوام کے بس کی بات نہیں۔ عوام کا کام ووٹ دینا اور اپنے نمائندوں کو پارلیمان تک پہنچانا ہے، تاکہ وہ ان کے مسائل حل کریں۔
ہمیں کسی سے ذاتی عناد نہیں، بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ خطے کے بنیادی مسائل حل ہوں۔ سیاسی قافلوں کو نعروں اور للکاروں کے ذریعے غیر ضروری اہمیت دینے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ کئی دیہات اور محلوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سکول اور سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں، اور جب عوام اپنے نمائندوں سے سوال کرتے ہیں تو اسے بدتمیزی قرار دیا جاتا ہے۔
واضح رہے، اپنے حقوق کے لیے سوال اٹھانا بدتمیزی نہیں، بلکہ یہ ہر شہری کا حق ہے۔ اگر آپ عوامی نمائندے ہیں تو عوام کے مسائل حل کریں، اور اگر نہیں کر سکتے تو منصب چھوڑ دیں تاکہ کوئی اہل شخص آگے آ سکے۔
آخر میں، دانشوروں سے گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں، چاپلوسی کی روش ترک کریں اور جہاں غلط ہو رہا ہے، اس کی نشاندہی کریں۔ یہی حقیقی دانشمندی اور ذمہ داری ہے۔
دانشوروں کی بیشتر تحریریں اور سوشل میڈیا پوسٹس مبارکبادوں، خوشامد اور جی حضوری تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ جہاں خطے کو سڑکوں، صاف پانی، صفائی، بجلی اور بہتر انفراسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، وہاں محض سیاسی بیان بازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہ بحث عام ہے کہ کس سیاسی جماعت نے کس کو للکارا، مگر اصل مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ صحافتی اور وی لاگر کمیونٹی بھی تعلقات نبھانے میں مصروف نظر آتی ہے، جبکہ خطے کی ہر باشعور آواز ذاتی وابستگیوں کی وجہ سے سوال اٹھانے سے گریزاں ہے۔
یاد رکھیں، تعلق رکھنا بری بات نہیں، لیکن جو کام حکومت یا عوامی نمائندے کر سکتے ہیں، وہ عام عوام کے بس کی بات نہیں۔ عوام کا کام ووٹ دینا اور اپنے نمائندوں کو پارلیمان تک پہنچانا ہے، تاکہ وہ ان کے مسائل حل کریں۔
ہمیں کسی سے ذاتی عناد نہیں، بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ خطے کے بنیادی مسائل حل ہوں۔ سیاسی قافلوں کو نعروں اور للکاروں کے ذریعے غیر ضروری اہمیت دینے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ کئی دیہات اور محلوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سکول اور سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں، اور جب عوام اپنے نمائندوں سے سوال کرتے ہیں تو اسے بدتمیزی قرار دیا جاتا ہے۔
واضح رہے، اپنے حقوق کے لیے سوال اٹھانا بدتمیزی نہیں، بلکہ یہ ہر شہری کا حق ہے۔ اگر آپ عوامی نمائندے ہیں تو عوام کے مسائل حل کریں، اور اگر نہیں کر سکتے تو منصب چھوڑ دیں تاکہ کوئی اہل شخص آگے آ سکے۔
آخر میں، دانشوروں سے گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں، چاپلوسی کی روش ترک کریں اور جہاں غلط ہو رہا ہے، اس کی نشاندہی کریں۔ یہی حقیقی دانشمندی اور ذمہ داری ہے۔