banahtv.com
لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز
کالمز 15 May 2026

احتجاج سے اقتدار،مشکل سفر

کیف شوکت
Editorial Image
برطانیہ کی سیاست میں عوامی غصہ کوئی نئی چیز نہیں۔ اس ملک کی تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جب لوگ خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں تو وہ سیاسی نظام کو جھنجھوڑنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ مگر برطانوی سیاست کی ایک اور تاریخ بھی ہے: یہاں احتجاجی لہریں اکثر بہت طاقتور نظر آتی ہیں، لیکن مستقل اقتدار تک پہنچتے پہنچتے کمزور پڑ جاتی ہیں۔
انیس سو اسی کی دہائی میں مارگریٹ تھیچر کے خلاف شدید عوامی غصہ تھا۔ پھر عراق جنگ کے بعد ٹونی بلیئر پر اعتماد ٹوٹا۔ اس کے بعد یو کے آئی پی نے یورپی یونین مخالف جذبات کو طاقت دی اور آخرکار بریگزٹ ممکن ہوا۔ ہر دور میں عوام نے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا کہ وہ ناراض ہیں۔ آج ریفارم پارٹی اسی سلسلے کی ایک نئی شکل دکھائی دیتی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اس بار غصہ زیادہ گہرا اور معاشی دباؤ زیادہ شدید محسوس ہو رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زیادہ ٹیکس دے رہے ہیں مگر بدلے میں NHS کمزور ہو رہی ہے، مقامی سروسز ٹوٹ رہی ہیں، گھروں کی قیمتیں قابو سے باہر ہیں اور سیاستدان صرف ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔
اسی خلا میں فراج اور ریفارم پارٹی نے جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے امیگریشن کو عوامی بے چینی کا مرکز بنا دیا۔ مگر برطانوی سیاست کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جس بریگزٹ کو “سرحدوں پر کنٹرول” کے نام پر بیچا گیا تھا، اسی کے بعد کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمد ایک قومی بحران بن گئی۔
یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے:اگر بریگزٹ اس مسئلے کا حل تھا، تو پھر مسئلہ پہلے سے بڑا کیوں ہو گیا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاجی سیاست اور حکومتی حقیقت الگ ہو جاتی ہیں۔ برطانیہ کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف اشتعال انگیز تقریروں سے نظام چلایا جا سکے۔ یہاں کی سیاست صدیوں پرانے اداروں، پارلیمانی روایت، سول سروس، عدالتی نظام اور بین الاقوامی اتحادوں کے توازن پر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں ہر بڑی سیاسی لہر آخرکار اداروں کی دیوار سے ٹکراتی ضرور ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یو کے آئی پی نے بریگزٹ جتوا دیا، مگر اقتدار تک نہ پہنچ سکی۔ اسی طرح کئی عوامی تحریکیں شور تو بہت پیدا کرتی ہیں، مگر جب معیشت، خارجہ پالیسی اور ریاستی نظم و نسق کا سوال سامنے آتا ہے تو ووٹر دوبارہ محتاط ہو جاتا ہے۔ برطانوی ووٹر جذباتی ضرور ہوتا ہے، مگر مکمل طور پر انقلابی نہیں۔
ریفارم کی موجودہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں بے چینی حقیقی ہے۔ لیکن یہ ابھی ثابت ہونا باقی ہے کہ آیا یہ پارٹی برطانیہ کی اگلی بڑی حکمران قوت بن سکتی ہے یا صرف عوامی غصے کی ایک اور تاریخی لہر ثابت ہوگی۔
برطانوی سیاست کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ غصہ انتخابات جتوا سکتا ہے، مگر ملک چلانے کے لیے صرف غصہ کافی نہیں ہوتا
اس کالمز کو شیئر کریں:
مزید کالمز
Advertisement