banahtv.com
لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز
کالمز 15 May 2026

ریفارم کی مقبولیت

فرحت حسین ملک
Editorial Image
برطانیہ کی سیاست میں Reform پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بنیادی وجہ صرف اس کا منشور نہیں، بلکہ بعض کمیونٹیز کے ایسے رویے بھی ہیں جنہوں نے مقامی لوگوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ خاص طور پر پاکستانی اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے طرزِ عمل نے یہاں کے مقامی برطانوی شہریوں کو سخت امیگریشن قوانین کی حمایت پر آمادہ کیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ چند لوگوں کے غلط رویے پوری کمیونٹی کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ بعض علاقوں میں صفائی کا ناقص انتظام، گلیوں میں کچرے کے ڈھیر، لوگوں کے گھروں کے سامنے غلط پارکنگ، ڈرائیو ویز بلاک کرنا، اور شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں رات گئے شور شرابہ جیسے مسائل مقامی آبادی کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح سوشل سسٹم کے غلط استعمال، جھوٹے بینیفٹس کلیمز، جعلی یا کنٹریکٹ شادیوں، اور غیر قانونی سرگرمیوں نے بھی کمیونٹی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ بعض افراد مذہبی آزادی کے نام پر ایسے رویے اختیار کرتے ہیں جن سے مقامی لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید یہاں اپنی الگ سماجی یا مذہبی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مساجد یا مذہبی اجتماعات کے باہر غلط پارکنگ، سڑکوں پر غیر ضروری ہجوم، اور قانون کی خلاف ورزیاں بھی اسی تاثر کو مضبوط کرتی ہیں۔
مزید یہ کہ کچھ طلبہ یہاں آ کر سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواستیں دیتے ہیں، جبکہ منشیات اور گینگ کلچر سے وابستہ جرائم نے بھی حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ ان تمام عوامل نے مقامی برطانوی شہریوں کو ایسے سیاسی گروہوں کی طرف مائل کیا جو امیگریشن کو محدود کرنے اور قوانین کو مزید سخت بنانے کے وعدے کرتے ہیں۔
Reform پارٹی کی مقبولیت کا سب سے بڑا نکتہ یہی ہے کہ وہ امیگریشن کو کم کرنے اور سخت کنٹرول نافذ کرنے کی بات کرتی ہے۔ اس کی حمایت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہماری اپنی کمزوریاں، غلط رویے، اور اپنی نئی نسل کی مناسب تربیت میں ناکامی بھی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی اپنا احتساب کرے، اپنے رویوں کو بہتر بنائے، مقامی قوانین کا احترام کرے، اور اپنی اولاد کی اچھی تربیت پر توجہ دے۔ کیونکہ اگر ہم نے خود کو نہ بدلا تو مستقبل میں قوانین اس قدر سخت ہو سکتے ہیں کہ یہاں صرف وہی لوگ رہ سکیں گے جو قانون کی مکمل پاسداری کریں گے اور معاشرے کے ذمہ دار شہری بن کر زندگی گزاریں گے۔
ایک بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنے کردار، اپنے اعمال، اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں۔
اس کالمز کو شیئر کریں:
مزید کالمز
Advertisement