banahtv.com
لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز
کالمز 15 May 2026

پولیس کی وردی یا عوام کی تذلیل؟

ایم جمیل احمد شاہد
Editorial Image
آزاد کشمیر ایک پُرامن خطہ کہلاتا ہے۔ یہاں کے لوگ محبت، رواداری، بھائی چارے اور ریاستی اداروں کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ عوام ہمیشہ یہ امید رکھتے ہیں کہ ریاستی ادارے ان کے جان و مال کے محافظ ہوں گے، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، ان کے مسائل سنیں گے اور ان کے ساتھ قانون و انصاف کے مطابق رویہ اختیار کریں گے۔ مگر جب یہی ادارے عوام کے وقار کو روندنے لگیں، جب وردی عوام کی حفاظت کے بجائے خوف کی علامت بن جائے، جب احتجاج کرنے والے شہریوں کو مجرم سمجھ کر ان کی تذلیل کی جائے، تو پھر سوال صرف ایک فرد یا ایک تھپڑ کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔
ضلع کوٹلی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک شہری، ملک یاسر، جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا رکن تھا، بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے ہونے والے ایک عوامی احتجاج میں شریک تھا۔ یہ کوئی مسلح بغاوت نہیں تھی، نہ ہی ریاست کے خلاف جنگ تھی۔ یہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے عوام کا احتجاج تھا۔ مگر افسوس اس وقت ہوا جب ڈیوٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار نے مشتعل ہو کر ملک یاسر کو سرِعام تھپڑ مار دیا۔ یہ صرف ایک شخص کے چہرے پر پڑنے والا تھپڑ نہیں تھا بلکہ پورے احتجاجی عوام کے وقار پر حملہ تھا۔ یہ ایک ایسا زخم تھا جس نے کوٹلی کی فضا میں غصہ، اشتعال اور بے چینی کی آگ بھڑکا دی۔
اس واقعے کے بعد پورا ضلع کوٹلی احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شہر بند ہو گیا، بازار سنسان ہو گئے، سڑکوں پر غصے سے بھرے عوام نکل آئے۔ لوگ صرف ایک تھپڑ کے خلاف نہیں نکلے تھے بلکہ اس رویے کے خلاف نکلے تھے جو عرصہ دراز سے عوام کے سینوں میں لاوا بن کر پک رہا تھا۔ یہ ردعمل اس بات کا ثبوت تھا کہ عوام پہلے ہی محکمہ پولیس سے مطمئن نہیں تھے اور اس واقعے نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔
تاہم حالات اس وقت بہتری کی جانب بڑھنا شروع ہوئے جب محکمہ پولیس اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں صورتحال کو سنجیدگی سے لیا گیا اور عوامی جذبات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی۔ بالآخر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے شہری ملک یاسر سے باقاعدہ معافی مانگ لی۔ اس اقدام نے وقتی طور پر کشیدہ ماحول میں کمی پیدا کی اور عوامی غصے کو کسی حد تک ٹھنڈا کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد شہر کا بند پہیہ ایک بار پھر رواں دواں ہو گیا۔ بازار کھل گئے، ٹریفک بحال ہو گئی اور معمولاتِ زندگی دوبارہ شروع ہو گئے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت تھی کہ اگر ریاستی ادارے انا کے بجائے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو بڑے سے بڑا بحران بھی مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایسے واقعات جنم ہی کیوں لیتے ہیں؟ کیوں عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ ایک معمولی واقعہ پورے ضلع کو احتجاج کی آگ میں جھونک دیتا ہے؟ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پولیس کا کردار کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر پولیس انصاف پسند، مہذب اور قانون کی پابند ہو تو معاشرہ امن کا گہوارہ بنتا ہے۔ لیکن اگر پولیس اختیارات کے نشے میں مبتلا ہو جائے، وردی کو طاقت کی علامت سمجھنے لگے اور عوام کو حقیر جاننے لگے تو پھر ریاستی نظام اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دیتا ہے۔ عوام پولیس سے اس لیے خوفزدہ نہیں ہوتے کہ وہ قانون نافذ کرتی ہے بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ کہیں ان کی عزت نفس مجروح نہ کر دی جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات ماضی میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں جہاں پولیس اہلکاروں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ کہیں غریب رکشہ ڈرائیور کو تھانے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کہیں کسی نوجوان کو بلاجواز حراست میں لیا گیا، کہیں کسی بزرگ کو سڑک پر ذلیل کیا گیا۔ ان تمام واقعات نے عوام کے دلوں میں پولیس کے لیے اعتماد کے بجائے خوف پیدا کیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محکمہ پولیس میں ایسے افسران بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی دیانتداری، پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور عوام دوست رویوں سے پولیس کا وقار بلند کیا۔ سابق ایس ایس پی راجہ عرفان سلیم اور موجودہ ایس ایس پیز خرم افضال۔ خاور شوکت مغل جیسے افسران اس کی واضح مثال ہیں۔ ان شخصیات نے نہ صرف مشکل ترین کیسز کو حل کیا بلکہ عوام کے ساتھ عزت اور شائستگی سے پیش آ کر محکمہ پولیس پر عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ میرپور ڈویژن میں عوام کی ایک بڑی تعداد ان افسران کی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ پولیس اگر چاہے تو خوف نہیں بلکہ اعتماد کی علامت بن سکتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ جب ایک طرف ایسے افسران اپنی محنت سے پولیس کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری6 طرف چند غیر ذمہ دار اہلکار اپنی حرکتوں سے ان تمام کوششوں پر پانی کیوں پھیر دیتے ہیں؟ ایک تھپڑ صرف ایک لمحے کا عمل ہوتا ہے مگر اس کے اثرات برسوں تک باقی رہتے ہیں۔ عوام یہ نہیں دیکھتے کہ کون سا افسر اچھا ہے اور کون سا برا، وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
کوٹلی کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ریاستی اداروں میں تربیت، برداشت اور عوامی شعور کی کتنی شدید کمی ہے۔ احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ اگر عوام بنیادی سہولیات کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں حکومتی نظام ناکام ہوا ہے۔ ایسے میں پولیس کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ حالات کو حکمت، صبر اور تدبر سے سنبھالے، نہ کہ طاقت کا استعمال کر کے عوام کو مزید مشتعل کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں طاقت کے استعمال کو ہی رِٹ قائم کرنا سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں مہذب معاشروں کی پولیس اپنے رویے، اخلاق اور برداشت سے پہچانی جاتی ہے۔ وہاں احتجاج کرنے والوں کو دشمن نہیں سمجھا جاتا بلکہ ان کے مطالبات سننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہاں اگر کوئی اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے باغی، شرپسند یا قانون شکن قرار دے دیا جاتا ہے۔ ریاستی اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب نوجوان بے روزگار ہوں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں، ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہوں، بجلی اور پانی کے مسائل ہوں، اور اوپر سے احتجاج کرنے والوں کی تذلیل کی جائے تو پھر ردعمل شدید ہی ہوگا۔ عوام اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ سوال پوچھ رہے ہیں، اپنے حقوق مانگ رہے ہیں اور عزت چاہتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کی مضبوطی اس کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ اگر عوام اپنے ہی محافظوں سے خوفزدہ ہو جائیں تو پھر ریاستی ڈھانچہ کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پولیس کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وردی طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اس وردی کا اصل حسن عوام کی خدمت میں ہے، نہ کہ ان پر دھونس جمانے میں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کوٹلی کے واقعے جیسے معاملات سے سبق سیکھا جائے۔ اگرچہ اس مسئلے کا اختتام مذاکرات، معافی اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہو گیا، مگر یہ واقعہ ریاستی اداروں کے لیے ایک واضح پیغام چھوڑ گیا ہے کہ عوام اب اپنی عزت نفس پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لیے اپنی صفوں میں احتساب، برداشت اور اخلاقیات کو فروغ دیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ جنم نہ لیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو انصاف، برداشت، شعور اور امن عطا فرمائے۔ ہمارے اداروں کو عوام کی عزت اور خدمت کا حقیقی شعور دے۔ اور اس دھرتی کو ایسے حالات سے محفوظ رکھے جہاں محافظ ہی خوف کی علامت بن جائیں۔
آمین۔
اس کالمز کو شیئر کریں:
مزید کالمز
Advertisement