کالمز
24 May 2026
بڑے لوگ، بڑے صدمے اور بڑا حوصلہ
چوہدری شفیق احمد
مستقبل کے سنہرے خواب آنکھوں میں سجائے ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی ادھوری کہانی بن کر وقت کی بے رحم حقیقت میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔
ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی کی جدائی نے پوری وادی کو شدید کرب و سوگ میں مبتلا کر دیا۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں اور جذبات صرف خاموشی میں ڈھل جاتے ہیں۔ ایک نوجوان، باصلاحیت اور روشن مستقبل رکھنے والی شخصیت کا یوں اچانک رخصت ہو جانا صرف ایک گھرانے نہیں بلکہ پورے ماحول و علاقے کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔ زندگی کے وہ خواب جو ابھی تعبیر کے قریب تھے، وقت کی بے رحم حقیقت میں ادھورے رہ گئے۔
سیاست بظاہر بڑے عہدوں، عوامی رابطوں اور مراعات سے پرکشش محسوس ہونے والی دنیا دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بے رحم کھیل، کانٹوں کی سیج اور ایک ایسی پرخار وادی ہے جس میں جو جتنا آگے بڑھتا ہے وہ نجی زندگی میں اپنے والدین، بچوں اور دیگر اہلِ خانہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔ یہ سفر باہر سے جتنا روشن نظر آتا ہے، اندر سے اتنا ہی زیادہ قربانیوں، دباؤ اور ذاتی محرومیوں سے بھرا ہوتا ہے۔
سابق وزیرِ صحت و ممبر قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب کی زندگی میں حالیہ برسوں کے دوران پہلے جوان بھانجے اور بھتیجے کی جدائی، اور اب جوان سالہ بیٹی ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی کی وفات ایک ایسا ناقابلِ برداشت صدمہ ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ اولاد کا غم انسان کے وجود کو اندر سے توڑ دیتا ہے اور زندگی کے تمام زاویے بدل دیتا ہے۔
اس کڑے وقت میں ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب نے جس صبر، حوصلے اور وقار کا مظاہرہ کیا، وہ ایک مثال ہے۔ بڑے لوگ اپنی پہچان عہدوں یا شہرت سے نہیں بلکہ مشکل حالات میں اپنے کردار، برداشت اور استقامت سے کرواتے ہیں۔ شدید ترین صدمات کے باوجود خود کو سنبھال کر رکھنا اور حوصلے کے ساتھ زندگی کے ساتھ جڑے رہنا ان کی شخصیت کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس بڑے سانحے اور شدید صدمے کے باوجود ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب اپنے ہاں تعزیت کے لیے آنے والوں سے انتہائی بردباری، وقار اور صبر کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف لوگوں کی تعزیت قبول کر رہے ہیں بلکہ اپنے دل کے بوجھ اور احساسات کو بھی نہایت سنجیدگی اور حوصلے کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ اپنے غم کو تنہائی میں قید کرنے کے بجائے وہ لوگوں کے درمیان رہ کر اسے برداشت کر رہے ہیں، جو ان کی بلند حوصلگی، مضبوط اعصاب اور عظیم کردار کی واضح علامت ہے۔
ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی مرحومہ کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو نہ صرف وادیِ بناہ کے زندہ دل اور روادار معاشرے کی خوبصورت عکاسی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب عوامی سطح پر گہرے اور مضبوط روابط رکھتے ہیں اور ان کی سماجی و عوامی خدمات نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا ہوا ہے۔
انٹرنیشنل آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر مقصود ابدالی صاحب اور ان کا پورا خاندان اس وقت شدید غم و الم میں مبتلا ہے۔ عوامی خدمت اور وقار سے پہچانا جانے والا یہ خاندان یہ مشکل اور آزمائش کا وقت دل گرفتگی کے ساتھ برداشت کر رہا ہے۔
زندگی کا اصل امتحان یہی ہے کہ انسان بڑے صدمات کے باوجود ٹوٹنے کے بجائے سنبھل کر کھڑا رہے۔ کچھ لوگ حالات کے سامنے بکھر جاتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے غم کو صبر اور وقار کے ساتھ برداشت کرکے دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ یہی استقامت انسان کی اصل طاقت ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی کی جدائی نے پوری وادی کو شدید کرب و سوگ میں مبتلا کر دیا۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں اور جذبات صرف خاموشی میں ڈھل جاتے ہیں۔ ایک نوجوان، باصلاحیت اور روشن مستقبل رکھنے والی شخصیت کا یوں اچانک رخصت ہو جانا صرف ایک گھرانے نہیں بلکہ پورے ماحول و علاقے کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔ زندگی کے وہ خواب جو ابھی تعبیر کے قریب تھے، وقت کی بے رحم حقیقت میں ادھورے رہ گئے۔
سیاست بظاہر بڑے عہدوں، عوامی رابطوں اور مراعات سے پرکشش محسوس ہونے والی دنیا دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بے رحم کھیل، کانٹوں کی سیج اور ایک ایسی پرخار وادی ہے جس میں جو جتنا آگے بڑھتا ہے وہ نجی زندگی میں اپنے والدین، بچوں اور دیگر اہلِ خانہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔ یہ سفر باہر سے جتنا روشن نظر آتا ہے، اندر سے اتنا ہی زیادہ قربانیوں، دباؤ اور ذاتی محرومیوں سے بھرا ہوتا ہے۔
سابق وزیرِ صحت و ممبر قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب کی زندگی میں حالیہ برسوں کے دوران پہلے جوان بھانجے اور بھتیجے کی جدائی، اور اب جوان سالہ بیٹی ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی کی وفات ایک ایسا ناقابلِ برداشت صدمہ ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ اولاد کا غم انسان کے وجود کو اندر سے توڑ دیتا ہے اور زندگی کے تمام زاویے بدل دیتا ہے۔
اس کڑے وقت میں ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب نے جس صبر، حوصلے اور وقار کا مظاہرہ کیا، وہ ایک مثال ہے۔ بڑے لوگ اپنی پہچان عہدوں یا شہرت سے نہیں بلکہ مشکل حالات میں اپنے کردار، برداشت اور استقامت سے کرواتے ہیں۔ شدید ترین صدمات کے باوجود خود کو سنبھال کر رکھنا اور حوصلے کے ساتھ زندگی کے ساتھ جڑے رہنا ان کی شخصیت کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس بڑے سانحے اور شدید صدمے کے باوجود ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب اپنے ہاں تعزیت کے لیے آنے والوں سے انتہائی بردباری، وقار اور صبر کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف لوگوں کی تعزیت قبول کر رہے ہیں بلکہ اپنے دل کے بوجھ اور احساسات کو بھی نہایت سنجیدگی اور حوصلے کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ اپنے غم کو تنہائی میں قید کرنے کے بجائے وہ لوگوں کے درمیان رہ کر اسے برداشت کر رہے ہیں، جو ان کی بلند حوصلگی، مضبوط اعصاب اور عظیم کردار کی واضح علامت ہے۔
ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی مرحومہ کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو نہ صرف وادیِ بناہ کے زندہ دل اور روادار معاشرے کی خوبصورت عکاسی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ ڈاکٹر انصر ابدالی صاحب عوامی سطح پر گہرے اور مضبوط روابط رکھتے ہیں اور ان کی سماجی و عوامی خدمات نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا ہوا ہے۔
انٹرنیشنل آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر مقصود ابدالی صاحب اور ان کا پورا خاندان اس وقت شدید غم و الم میں مبتلا ہے۔ عوامی خدمت اور وقار سے پہچانا جانے والا یہ خاندان یہ مشکل اور آزمائش کا وقت دل گرفتگی کے ساتھ برداشت کر رہا ہے۔
زندگی کا اصل امتحان یہی ہے کہ انسان بڑے صدمات کے باوجود ٹوٹنے کے بجائے سنبھل کر کھڑا رہے۔ کچھ لوگ حالات کے سامنے بکھر جاتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے غم کو صبر اور وقار کے ساتھ برداشت کرکے دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ یہی استقامت انسان کی اصل طاقت ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ثناء انصر ابدالی مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔