کالمز
08 May 2026
ہمارے تعلیمی ادارے اور ہماری ترجیحات
غلام دستگیرراجا
چراغ حسن حسرت گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کھوئی رٹہ ایک ایسی عظیم درس گاہ ہے جس نے نہ صرف وادیِ بناہ کےبے شمار لوگوں کی قسمت سدھارنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا بلکہ دور دراز علاقوں کے طلباء کی تشنگی کو بھی کم کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کیا۔مختلف ادوار میں مختلف شخصیات نے بطور لیکچرار ز، اسسٹنٹ پروفیسرز و پرنسپلز کے عہدوں پر کام کیا اور خطہ آ زاد کشمیر کو مختلف شعبہ جات کے لیے بہترین آفیسر دیے اس میں کوئی شک نہیں کہ آ فیسرز بننے میں ان
لوگوں کی اپنی ذاتی محنت شاقہ شامل حال رہی مگر درج بالا آفیسران کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا۔گزشتہ چند سالوں سے اس کالج میں بی۔ایس کے مختلف مضامین (اکنامکس،باٹنی ،کامرس ) اور خاص کر ماڈل سائنس کلاس (پری میڈیکل و پری انجینئرنگ) کلاسز جاری و ساری
ہیں۔
گزشتہ چنددنوںکی بات ہےکہ ماڈل سائنس کلاس کے انٹری ٹیسٹ کے موقع پر میرا وہاں جانا ہوا غالباً یہ ماڈل سائنس کلاس کا چوتھا انٹری ٹیسٹ تھا جس میں وادی بناہ کے علاؤہ دور درازعلاقوں سے 188طلباء وطالبات نے رجسٹریشن کرائی ۔شرکت کرنے والے طلباء وطالبات جن کی تعداد 185 تھی 3 امیدوار کسی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ کالج کا ایک بڑا ہال،اور دو کمروں میں مکمل شفافیت کے ساتھ طلباء وطالبات نے ٹیسٹ دیا نگرانی کا معیار بہت ہی عمدہ دیکھنے کوملا میل و فی میل نگران تعینات تھے طلباء وطالبات کو انفرادی طور پر سٹیشنری سے لیکر منرل واٹر تک تمام چیزیں کالج انتظامیہ کی طرف سے مہیا کی گئی۔
ان185طلباء طالبات میں سے صرف 70 خوش نصیب میرٹ کی بنیاد پر اس درس گاہ سے علم کے موتیوں کو سمیٹیں گئے باقی طلباء وطالبات نہ نالائق ہیں نہ ہی ان کے اعضاء میں کوئی کمی ہے اگر کمی ہے تو ریاست جموں وکشمیر کے اس ادارے میں کمی ہےجس میں طلباء و طالبات کے لیے گنجائش نہیں ہےاس کالج کو 1985ء میں اس وقت کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان صاحب (مرحوم)نے کالج کا درجہ دے کر ایک عمارت دی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ناکافی ہو چکی ہے ۔سردار سکندر حیات خان صاحب (مرحوم) کے ہی دوسرے دورِ حکومت میں ایک بڑا ہال اور کچھ مزید کمرے دیے اس کے بعد اس ادارے کی طرف توجہ اس طرح نہیں دی گئی جس طرح دینی چاہیے تھی۔
کالج کی موجود عمارت کی چھت اتنی بوسیدہ ہو چکی ہے کہ ابھی بارش آسمان پر گرجتی ہے تو اس کی چھت رونا دھونا شروع کر دیتی ہے عمارت موجودہ طلباء وطالبات کے لیے ناکافی ہے عمارت کے ساتھ ساتھ اسٹاف کی بھی کمی ہے جس کو پرنسپل محترم محمد شہپال خان صاحب نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت باہر سے کچھ پرائیویٹ لوگوں کو ہائیر کر رکھا ہے تاکہ طلبہ کا نقصان نہ ہو۔بی ۔ایس پروگرامز سمسٹر وائز ہوتے ہیں ہر سمسٹر کے طلبہ کو الگ روم چاہیے ہوتا ہے اگر تین بی ۔ایس پروگرامز کلاسز کو جمع کریں تو کل ملا کر 24کمروں کی ضرورت ہے اور طلبہ کے لیے کمروں کا قط پڑا ہے۔دوسری طرف ماڈل سائنس کلاس کے علاؤہ سال اول و دوم کے طلباء بھی میٹرک پاس کرنے کے بعد اس درس گاہ میں اکنامکس،شماریات،کامرس،علم و ادب ،فیزیکل ایجوکیشن میں داخلہ لیتے ہیں۔اس وجہ سے جگہ مزید درکار ہےاور جو موجودہ عمارت ہے وہ انتہائی ناکافی ہے سب کلاسز کے لیے جگہ ہی نہیں رہتی اس صورتحال میں کلاسز کو لیب رومز، گیلری،کیبن ،درختوں کی چھاؤں یا کھلے
میدان میں لینا پڑتا ہے لیکن بارش کے دوران کلاسزلینا محال ہو جاتا ہے۔
محترم پرنسپل پروفیسرمحمد شہپال خان صاحب کے ساتھ گفتگو کے دوران برسبیل سوال ہوا کہ باقی طلبہ کو داخلہ کیوں نہیں دیاجائے گا تو کہنے لگے "میرے بس میں ہو تو میں سب کو داخلہ دوں لیکن میری بے بسی ہے ہر والد یا والدہ کی خواہش ہے کہ ان کا بچہ یا بچی یہاں پڑھے تاکہ ان کے کندھوں پر سے بھاری فیس، اور بھاری اخراجات کا بوجھ کم ہو" لیکن ان کی خواہش مرزا غالب کے شعر
ؔہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
میری حکمران طبقے سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ غریبوں کے بچوں کے خواب مت چھنیں۔ خاص کر وادی بناہ کھوئی رٹہ کے دو معزز ممبران اسمبلی جن کو لوگوں نے اپنا مسیحا مان کر اسمبلی کی طرف رخصت کیا تھا وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے کوشش کریں جلد از جلد مزید کمروں کی تعمیرات کو عملی جامہ پہنایا جائے چونکہ تاریخ انھی لوگوں کے کردار کو سراہتی ہے جنھوں نے کچھ کر کے دکھایا ہواور موجود دونوں ممبران اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ سرسوں کو ہتھیلی پر جما سکتے ہیں۔ آخری عرض !کہنا نہیں چاہیے لیکن اگر ادارے کی کچھ بہتری ہو جائے تو کہنے میں کیا حرج ہے اگر تاریخ میں تحریک علی گڑھ ،شبلی نعمانی کے اداروں دارالمصنفین اور ندوۃ العلماء کے کردار کو دیکھا جائے تو مجھے کہنے میں کچھ جھجھک نہیں اگر اس درس گاہ کے وہ طلبہ جنھوں نے کچھ سیکھا اور آج کسی بھی مقام پر ہیں تو اپنے ان پیاروں کے ایصالِ ثواب کی نیت سے نکلیں ،اللہ کریم کی ذات سے تجارت کرنے کے لیے سر بکف ہوں ،اس کی رضا کی خاطر قدم اٹھائیں آپ سب کے دونوں جہان سرخ رو ہو جائیں گے اور مال و متاع میں برکت بھی ہو گی ۔
ہم کتنی فضول رسموں پر اپنی دولت کو پانی کی طرح بہا دیتے ہیں اس سوال کا جواب قیامت کے دن ہر ایک نے دینا ہے کہ مال کہاں سے کمایا کہاں پہ خرچ کیا تو اس سے بہتر کوئی مقام یا مصرف نہیں ہو گا۔اگر ایسے لوگ جنھیں اللہ نے مال عطاء کیا اور اس کے راستے میں خرچ کرنے کا دل دیا ہے تو وہ اس کالج کی انتظامیہ (پرنسپل و اسٹاف) سے ملیں کالج میں کمروں کی کمی کو دور کرنے کے لیے ان کا دست و بازو بنیںتو چند کمرے اگر بن جائیں تو وادی کا ہر بچہ و بچی اس درس گاہ سے فیض حاصل کر سکتا ہے وہ بچہ خواہ کسی غریب کا ہو،یا مفلس دیہاڑی دار کا ہو، کسی متوسط خاندان سے ہو یا کسی امیر خاندان سے سب کو یکساں تعلیم میسر ہو سکتی ہے اور کئی والدین اپنے خواب کی تعبیر پا سکتے ہیں ۔
جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں کالج انتظامیہ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو تیار ہوں میرا یقین ہے کالج انتظامیہ آ پ کے عطیات کو پوری تن دہی و امانت داری سے لگائے گی اور مکمل حساب کتاب کے لیے خود کو پیش بھی کرےگی اللّٰہ کریم ہمیں نیکی کی طرف لے آئے میری ذات سے،میرے خیال سے سو اختلاف کریں میں خندہ پیشانی سے قبول کروں گا کالج انتظامیہ جہاں پر مجھ سے کام لینا چاہے میں ان کے ساتھ ہوں۔آخری بات کہ اس مختصر زندگی میں دنیاپر آنے کے مقصد کو پہچانیں اللّٰہ کے حضور کچھ لے کر جائیں تو پھر سو چیں مت اپنی
بساط کے مطابق قدم اٹھانیں میں پہل کریں اللّٰہ کریم کرم کی تجلی فرمائے گا۔
لوگوں کی اپنی ذاتی محنت شاقہ شامل حال رہی مگر درج بالا آفیسران کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا۔گزشتہ چند سالوں سے اس کالج میں بی۔ایس کے مختلف مضامین (اکنامکس،باٹنی ،کامرس ) اور خاص کر ماڈل سائنس کلاس (پری میڈیکل و پری انجینئرنگ) کلاسز جاری و ساری
ہیں۔
گزشتہ چنددنوںکی بات ہےکہ ماڈل سائنس کلاس کے انٹری ٹیسٹ کے موقع پر میرا وہاں جانا ہوا غالباً یہ ماڈل سائنس کلاس کا چوتھا انٹری ٹیسٹ تھا جس میں وادی بناہ کے علاؤہ دور درازعلاقوں سے 188طلباء وطالبات نے رجسٹریشن کرائی ۔شرکت کرنے والے طلباء وطالبات جن کی تعداد 185 تھی 3 امیدوار کسی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ کالج کا ایک بڑا ہال،اور دو کمروں میں مکمل شفافیت کے ساتھ طلباء وطالبات نے ٹیسٹ دیا نگرانی کا معیار بہت ہی عمدہ دیکھنے کوملا میل و فی میل نگران تعینات تھے طلباء وطالبات کو انفرادی طور پر سٹیشنری سے لیکر منرل واٹر تک تمام چیزیں کالج انتظامیہ کی طرف سے مہیا کی گئی۔
ان185طلباء طالبات میں سے صرف 70 خوش نصیب میرٹ کی بنیاد پر اس درس گاہ سے علم کے موتیوں کو سمیٹیں گئے باقی طلباء وطالبات نہ نالائق ہیں نہ ہی ان کے اعضاء میں کوئی کمی ہے اگر کمی ہے تو ریاست جموں وکشمیر کے اس ادارے میں کمی ہےجس میں طلباء و طالبات کے لیے گنجائش نہیں ہےاس کالج کو 1985ء میں اس وقت کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان صاحب (مرحوم)نے کالج کا درجہ دے کر ایک عمارت دی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ناکافی ہو چکی ہے ۔سردار سکندر حیات خان صاحب (مرحوم) کے ہی دوسرے دورِ حکومت میں ایک بڑا ہال اور کچھ مزید کمرے دیے اس کے بعد اس ادارے کی طرف توجہ اس طرح نہیں دی گئی جس طرح دینی چاہیے تھی۔
کالج کی موجود عمارت کی چھت اتنی بوسیدہ ہو چکی ہے کہ ابھی بارش آسمان پر گرجتی ہے تو اس کی چھت رونا دھونا شروع کر دیتی ہے عمارت موجودہ طلباء وطالبات کے لیے ناکافی ہے عمارت کے ساتھ ساتھ اسٹاف کی بھی کمی ہے جس کو پرنسپل محترم محمد شہپال خان صاحب نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت باہر سے کچھ پرائیویٹ لوگوں کو ہائیر کر رکھا ہے تاکہ طلبہ کا نقصان نہ ہو۔بی ۔ایس پروگرامز سمسٹر وائز ہوتے ہیں ہر سمسٹر کے طلبہ کو الگ روم چاہیے ہوتا ہے اگر تین بی ۔ایس پروگرامز کلاسز کو جمع کریں تو کل ملا کر 24کمروں کی ضرورت ہے اور طلبہ کے لیے کمروں کا قط پڑا ہے۔دوسری طرف ماڈل سائنس کلاس کے علاؤہ سال اول و دوم کے طلباء بھی میٹرک پاس کرنے کے بعد اس درس گاہ میں اکنامکس،شماریات،کامرس،علم و ادب ،فیزیکل ایجوکیشن میں داخلہ لیتے ہیں۔اس وجہ سے جگہ مزید درکار ہےاور جو موجودہ عمارت ہے وہ انتہائی ناکافی ہے سب کلاسز کے لیے جگہ ہی نہیں رہتی اس صورتحال میں کلاسز کو لیب رومز، گیلری،کیبن ،درختوں کی چھاؤں یا کھلے
میدان میں لینا پڑتا ہے لیکن بارش کے دوران کلاسزلینا محال ہو جاتا ہے۔
محترم پرنسپل پروفیسرمحمد شہپال خان صاحب کے ساتھ گفتگو کے دوران برسبیل سوال ہوا کہ باقی طلبہ کو داخلہ کیوں نہیں دیاجائے گا تو کہنے لگے "میرے بس میں ہو تو میں سب کو داخلہ دوں لیکن میری بے بسی ہے ہر والد یا والدہ کی خواہش ہے کہ ان کا بچہ یا بچی یہاں پڑھے تاکہ ان کے کندھوں پر سے بھاری فیس، اور بھاری اخراجات کا بوجھ کم ہو" لیکن ان کی خواہش مرزا غالب کے شعر
ؔہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
میری حکمران طبقے سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ غریبوں کے بچوں کے خواب مت چھنیں۔ خاص کر وادی بناہ کھوئی رٹہ کے دو معزز ممبران اسمبلی جن کو لوگوں نے اپنا مسیحا مان کر اسمبلی کی طرف رخصت کیا تھا وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے کوشش کریں جلد از جلد مزید کمروں کی تعمیرات کو عملی جامہ پہنایا جائے چونکہ تاریخ انھی لوگوں کے کردار کو سراہتی ہے جنھوں نے کچھ کر کے دکھایا ہواور موجود دونوں ممبران اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ سرسوں کو ہتھیلی پر جما سکتے ہیں۔ آخری عرض !کہنا نہیں چاہیے لیکن اگر ادارے کی کچھ بہتری ہو جائے تو کہنے میں کیا حرج ہے اگر تاریخ میں تحریک علی گڑھ ،شبلی نعمانی کے اداروں دارالمصنفین اور ندوۃ العلماء کے کردار کو دیکھا جائے تو مجھے کہنے میں کچھ جھجھک نہیں اگر اس درس گاہ کے وہ طلبہ جنھوں نے کچھ سیکھا اور آج کسی بھی مقام پر ہیں تو اپنے ان پیاروں کے ایصالِ ثواب کی نیت سے نکلیں ،اللہ کریم کی ذات سے تجارت کرنے کے لیے سر بکف ہوں ،اس کی رضا کی خاطر قدم اٹھائیں آپ سب کے دونوں جہان سرخ رو ہو جائیں گے اور مال و متاع میں برکت بھی ہو گی ۔
ہم کتنی فضول رسموں پر اپنی دولت کو پانی کی طرح بہا دیتے ہیں اس سوال کا جواب قیامت کے دن ہر ایک نے دینا ہے کہ مال کہاں سے کمایا کہاں پہ خرچ کیا تو اس سے بہتر کوئی مقام یا مصرف نہیں ہو گا۔اگر ایسے لوگ جنھیں اللہ نے مال عطاء کیا اور اس کے راستے میں خرچ کرنے کا دل دیا ہے تو وہ اس کالج کی انتظامیہ (پرنسپل و اسٹاف) سے ملیں کالج میں کمروں کی کمی کو دور کرنے کے لیے ان کا دست و بازو بنیںتو چند کمرے اگر بن جائیں تو وادی کا ہر بچہ و بچی اس درس گاہ سے فیض حاصل کر سکتا ہے وہ بچہ خواہ کسی غریب کا ہو،یا مفلس دیہاڑی دار کا ہو، کسی متوسط خاندان سے ہو یا کسی امیر خاندان سے سب کو یکساں تعلیم میسر ہو سکتی ہے اور کئی والدین اپنے خواب کی تعبیر پا سکتے ہیں ۔
جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں کالج انتظامیہ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو تیار ہوں میرا یقین ہے کالج انتظامیہ آ پ کے عطیات کو پوری تن دہی و امانت داری سے لگائے گی اور مکمل حساب کتاب کے لیے خود کو پیش بھی کرےگی اللّٰہ کریم ہمیں نیکی کی طرف لے آئے میری ذات سے،میرے خیال سے سو اختلاف کریں میں خندہ پیشانی سے قبول کروں گا کالج انتظامیہ جہاں پر مجھ سے کام لینا چاہے میں ان کے ساتھ ہوں۔آخری بات کہ اس مختصر زندگی میں دنیاپر آنے کے مقصد کو پہچانیں اللّٰہ کے حضور کچھ لے کر جائیں تو پھر سو چیں مت اپنی
بساط کے مطابق قدم اٹھانیں میں پہل کریں اللّٰہ کریم کرم کی تجلی فرمائے گا۔