کالمز
26 May 2026
حج اور قربانی کا بھولا ہوا پیغام
محمد اسلم حجازی
مولانا رومؒ اور شیخ سعدیؒ کی حکایات بڑی دلچسپ اور سبق آموز ہیں۔
شیخ سعدیؒ سے منسوب ایک حکایت میں ایک ایسے مالدار شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے جو ہر سال بڑے اہتمام سے حج کرنے جاتا تھا۔ لوگ اس کی دینداری اور سخاوت کے چرچے کرتے تھے۔ وہ قافلوں کو کھانا کھلاتا، تحفے تقسیم کرتا اور اپنے حج کا بڑا تذکرہ کرتا تھا۔
ایک مرتبہ ایک بزرگ نے اس سے پوچھا:
“تمہاری کمائی کا ذریعہ کیا ہے؟”
اس نے جواب دیا:
“تجارت کرتا ہوں۔”
بزرگ نے مزید پوچھا:
“تمہاری تجارت میں دھوکا، ناجائز منافع، ملاوٹ یا لوگوں کا حق دبانا تو شامل نہیں ہوتا؟”
وہ خاموش ہوگیا۔
بزرگ نے فرمایا:
“تم اللہ کے گھر کا سفر کرتے ہو، مگر ساتھ لوگوں کے حقوق بھی اٹھائے پھرتے ہو، اور تم سمجھتے ہو کہ تم حج کرنے جا رہے ہو، حالانکہ تمہارے مظلوم تم سے پہلے اللہ کے حضور پہنچ چکے ہوتے ہیں۔”
پھر انہوں نے کہا:
“اگر ایک شخص کسی کا مال چرا کر کعبہ کا غلاف بھی چڑھائے، تو وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوسکتا، جب تک بندوں کے حقوق ادا نہ کرے۔”
علامہ اقبالؒ نے اس صورتِ حال کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے:
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے
اسلام عبادات کو محض رسمی اعمال نہیں بلکہ انسان کی فکری، روحانی، اخلاقی اور اجتماعی تربیت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
حج دراصل انسان کی مکمل بندگی اور اللہ کے سامنے کامل سپردگی کا عالمی مظہر ہے، جبکہ قربانی انسان کے نفس، خواہشات اور مادہ پرستی کے خلاف اعلانِ جہاد ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ انسان جتنے چاہے غلط کام کرے، شرکیہ اعمال میں مبتلا ہو، رشوت کھائے، ناجائز منافع خوری کرے، ذخیرہ اندوزی کرے، ناپ تول میں کمی کرے، سودی لین دین کرے، لوگوں پر ظلم کرے، رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرے، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرے، لوگوں کی زمینیں دبائے، کمزوروں کی حق تلفی کرے، کام چوری کرے، شرفاء کی پگڑیاں اچھالے، لوگوں کی عزتوں سے کھیلے، اور پھر ایک حج یا عمرہ کر لے تو اس کے گزشتہ سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔
اسی غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض حاجی اور نمازی معاملاتِ زندگی، خصوصاً حقوق العباد کے معاملے میں، عام لوگوں سے بھی گئے گزرے نظر آتے ہیں۔ لوگ رسمی نوعیت کی دینداری میں تو نمایاں ہوتے ہیں، مگر خدا خوفی اور حقیقی تقویٰ سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی کئی حج اور عمرے بھی ان کی زندگیوں میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کر پاتے۔
اس ضمن میں درج ذیل حدیث بڑی چشم کشا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے رسولوں کو دیا تھا۔”
پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، جس کے بال بکھرے ہوئے اور بدن غبار آلود ہے۔ وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر پکارتا ہے:
“اے میرے رب! اے میرے رب!”
حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کی غذا حرام کی ہے، تو ایسی حالت میں اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟
(صحیح مسلم، جامع ترمذی، مسند احمد)
ایک دوسری جگہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں ایک ایک کرکے ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقوق باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔”
(صحیح مسلم، مسند احمد)
جدید دور میں عبادات اکثر رسم اور روایت تک محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ یہی معاملہ حج اور قربانی کے ساتھ بھی ہے۔
حج کیا ہے؟
حج اللہ کی وحدانیت کا عملی اظہار ہے۔
حاجی ایک لباس پہنتا ہے، ایک مرکز کے گرد جمع ہوتا ہے، ایک ہی رب کو پکارتا ہے اور ایک ہی صدا بلند کرتا ہے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
یہ دراصل انسان کی مکمل سپردگی کا اعلان ہے۔
حج ملتِ اسلامیہ کی وحدت، مساوات اور روحانی بیداری کا عظیم مظہر ہے۔
کعبہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ مرکزِ ملت، مرکزِ عشق اور مرکزِ وحدت ہے، جہاں ہر قوم، ہر زبان، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر حیثیت کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔
وقتی طور پر ہی سہی، مگر وہاں:
• رنگ و نسل کی تمیز ختم ہوجاتی ہے
• طبقاتی تفاوت مٹ جاتا ہے
• اور جغرافیائی تقسیم بے معنی ہو جاتی ہے۔
احرام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت لباس یا دولت میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(الحجرات: 13)
حج انفرادی تزکیے، اجتماعی تربیت، فکری تبادلے اور اسلامی اخوت کا ذریعہ ہے۔
یہ حضرت ہاجرہؑ کی جدوجہد، حضرت اسماعیلؑ کی تسلیم و رضا، اور حضرت ابراہیمؑ کی کامل سپردگی کی یاد تازہ کرتا ہے۔
قربانی
حج کی طرح قربانی بھی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے مال، خواہشات، انا، محبتِ دنیا اور خود غرضی کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
آج کا انسان مادہ پرستی، انفرادیت، خود غرضی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ حج اور قربانی ہمیں:
• اللہ سے جوڑتے ہیں
• نفس کی غلامی سے آزاد کرتے ہیں
• امت کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں
• اور ایثار، تقویٰ اور اطاعت کا درس دیتے ہیں۔
یہ عبادات اگر اپنی حقیقی روح کے ساتھ ادا کی جائیں تو:
• فرد کا کردار بدل سکتا ہے
• معاشرہ بہتر ہوسکتا ہے
• امت میں وحدت پیدا ہوسکتی ہے
• اور اسلام کا احیا ممکن ہوسکتا ہے۔
قوموں کی تبدیلی کا آغاز ہمیشہ فرد کی اندرونی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ جب انسان خود بدلنے کا فیصلہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے خیر اور ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
مولانا ظفر علی خان
تحریر: 22 مئی 2026
شیخ سعدیؒ سے منسوب ایک حکایت میں ایک ایسے مالدار شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے جو ہر سال بڑے اہتمام سے حج کرنے جاتا تھا۔ لوگ اس کی دینداری اور سخاوت کے چرچے کرتے تھے۔ وہ قافلوں کو کھانا کھلاتا، تحفے تقسیم کرتا اور اپنے حج کا بڑا تذکرہ کرتا تھا۔
ایک مرتبہ ایک بزرگ نے اس سے پوچھا:
“تمہاری کمائی کا ذریعہ کیا ہے؟”
اس نے جواب دیا:
“تجارت کرتا ہوں۔”
بزرگ نے مزید پوچھا:
“تمہاری تجارت میں دھوکا، ناجائز منافع، ملاوٹ یا لوگوں کا حق دبانا تو شامل نہیں ہوتا؟”
وہ خاموش ہوگیا۔
بزرگ نے فرمایا:
“تم اللہ کے گھر کا سفر کرتے ہو، مگر ساتھ لوگوں کے حقوق بھی اٹھائے پھرتے ہو، اور تم سمجھتے ہو کہ تم حج کرنے جا رہے ہو، حالانکہ تمہارے مظلوم تم سے پہلے اللہ کے حضور پہنچ چکے ہوتے ہیں۔”
پھر انہوں نے کہا:
“اگر ایک شخص کسی کا مال چرا کر کعبہ کا غلاف بھی چڑھائے، تو وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوسکتا، جب تک بندوں کے حقوق ادا نہ کرے۔”
علامہ اقبالؒ نے اس صورتِ حال کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے:
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے
اسلام عبادات کو محض رسمی اعمال نہیں بلکہ انسان کی فکری، روحانی، اخلاقی اور اجتماعی تربیت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
حج دراصل انسان کی مکمل بندگی اور اللہ کے سامنے کامل سپردگی کا عالمی مظہر ہے، جبکہ قربانی انسان کے نفس، خواہشات اور مادہ پرستی کے خلاف اعلانِ جہاد ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ انسان جتنے چاہے غلط کام کرے، شرکیہ اعمال میں مبتلا ہو، رشوت کھائے، ناجائز منافع خوری کرے، ذخیرہ اندوزی کرے، ناپ تول میں کمی کرے، سودی لین دین کرے، لوگوں پر ظلم کرے، رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرے، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرے، لوگوں کی زمینیں دبائے، کمزوروں کی حق تلفی کرے، کام چوری کرے، شرفاء کی پگڑیاں اچھالے، لوگوں کی عزتوں سے کھیلے، اور پھر ایک حج یا عمرہ کر لے تو اس کے گزشتہ سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔
اسی غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض حاجی اور نمازی معاملاتِ زندگی، خصوصاً حقوق العباد کے معاملے میں، عام لوگوں سے بھی گئے گزرے نظر آتے ہیں۔ لوگ رسمی نوعیت کی دینداری میں تو نمایاں ہوتے ہیں، مگر خدا خوفی اور حقیقی تقویٰ سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی کئی حج اور عمرے بھی ان کی زندگیوں میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کر پاتے۔
اس ضمن میں درج ذیل حدیث بڑی چشم کشا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے رسولوں کو دیا تھا۔”
پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، جس کے بال بکھرے ہوئے اور بدن غبار آلود ہے۔ وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر پکارتا ہے:
“اے میرے رب! اے میرے رب!”
حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کی غذا حرام کی ہے، تو ایسی حالت میں اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟
(صحیح مسلم، جامع ترمذی، مسند احمد)
ایک دوسری جگہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں ایک ایک کرکے ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقوق باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔”
(صحیح مسلم، مسند احمد)
جدید دور میں عبادات اکثر رسم اور روایت تک محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ یہی معاملہ حج اور قربانی کے ساتھ بھی ہے۔
حج کیا ہے؟
حج اللہ کی وحدانیت کا عملی اظہار ہے۔
حاجی ایک لباس پہنتا ہے، ایک مرکز کے گرد جمع ہوتا ہے، ایک ہی رب کو پکارتا ہے اور ایک ہی صدا بلند کرتا ہے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
یہ دراصل انسان کی مکمل سپردگی کا اعلان ہے۔
حج ملتِ اسلامیہ کی وحدت، مساوات اور روحانی بیداری کا عظیم مظہر ہے۔
کعبہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ مرکزِ ملت، مرکزِ عشق اور مرکزِ وحدت ہے، جہاں ہر قوم، ہر زبان، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر حیثیت کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔
وقتی طور پر ہی سہی، مگر وہاں:
• رنگ و نسل کی تمیز ختم ہوجاتی ہے
• طبقاتی تفاوت مٹ جاتا ہے
• اور جغرافیائی تقسیم بے معنی ہو جاتی ہے۔
احرام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت لباس یا دولت میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(الحجرات: 13)
حج انفرادی تزکیے، اجتماعی تربیت، فکری تبادلے اور اسلامی اخوت کا ذریعہ ہے۔
یہ حضرت ہاجرہؑ کی جدوجہد، حضرت اسماعیلؑ کی تسلیم و رضا، اور حضرت ابراہیمؑ کی کامل سپردگی کی یاد تازہ کرتا ہے۔
قربانی
حج کی طرح قربانی بھی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے مال، خواہشات، انا، محبتِ دنیا اور خود غرضی کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
آج کا انسان مادہ پرستی، انفرادیت، خود غرضی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ حج اور قربانی ہمیں:
• اللہ سے جوڑتے ہیں
• نفس کی غلامی سے آزاد کرتے ہیں
• امت کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں
• اور ایثار، تقویٰ اور اطاعت کا درس دیتے ہیں۔
یہ عبادات اگر اپنی حقیقی روح کے ساتھ ادا کی جائیں تو:
• فرد کا کردار بدل سکتا ہے
• معاشرہ بہتر ہوسکتا ہے
• امت میں وحدت پیدا ہوسکتی ہے
• اور اسلام کا احیا ممکن ہوسکتا ہے۔
قوموں کی تبدیلی کا آغاز ہمیشہ فرد کی اندرونی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ جب انسان خود بدلنے کا فیصلہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے خیر اور ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
مولانا ظفر علی خان
تحریر: 22 مئی 2026