نیوز رپورٹ: چڑھوئی/ نمائندہ خصوصی
گزشتہ دنوں ایک ناخوشگوار واقعے میں شدید زخمی ہونے والے معروف استاد اور نمبردار مظفر مرحوم (ڈماس والے) کے فرزند، ماسٹر رضا مظفر راولپنڈی کے ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ذرائع کے مطابق ماسٹر رضا مظفر پر چند اوباش نوجوانوں نے اس وقت مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا جب انہوں نے علاقے میں نوجوانوں کو غلط سرگرمیوں سے روکنے اور ان کی اصلاح کی کوشش کی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ۲۴ گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کی عمل داری کی سمت اہم پیشرفت کی ہے۔
اس دردناک واقعے پر علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اور سماجی حلقوں نے حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے میں نامزد تمام مرکزی ملزمان کے ساتھ ساتھ ان کو چھپانے، سہولت کاری کرنے اور اثر و رسوخ یا سفارش کے ذریعے بچانے کی کوشش کرنے والے تمام افراد کی بھی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ برادری، تعلق یا اثر و رسوخ کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بنا سکتا۔ رضا مظفر کا قتل صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ معاشرتی ضمیر کا قتل ہے۔ شہریوں نے واضح کیا ہے کہ یہ مطالبہ کسی انتقام کے لیے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہے تاکہ مستقبل میں کوئی دوسرا استاد یا شہری اس قسم کے ظلم کا شکار نہ ہو۔