اسلام آباد(بناہ ویلی نیوز)
سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والا مبینہ خفیہ سفارتی خط (سائفر) ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ اہلکار ڈونلڈ لو نے اس وقت کے پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے ملاقات میں روس یوکرین جنگ پر عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی اور "جارحانہ غیر جانبدارانہ موقف" پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ سائفر کے پبلک ہونے والے متن کے مطابق، امریکی اہلکار نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ "اگر وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے، تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا، ورنہ آگے کا راستہ انتہائی کٹھن ہوگا"۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مئی 2026 میں پاکستان، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری علاقائی کشیدگی میں ایک خفیہ ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ عمران خان کے حامی اور تحریکِ انصاف (PTI) اس نئی رپورٹ کو اپنے اس دیرینہ موقف کی فتح قرار دے رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو ایک سوچی سمجھی بیرونی سازش کے تحت ہٹایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے قبل عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دی گئی 10 سال کی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں بری کر چکی ہے، تاہم اس خفیہ دستاویز کے دوبارہ جیو پولیٹیکل منظرنامے پر ابھرنے سے ملکی سیاست کا پارہ ایک بار پھر ہائی ہو گیا ہے۔