بناہ ویلی نیوز، بڈگام
مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں 12 سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ریپ اور قتل کے دلخراش واقعے نے پورے خطے کو سوگوارکر دیا۔ مقتولہ ہفتے کی شام لاپتہ ہوئی۔
پولیس حکام کے مطابق، بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد اہل خانہ نے تلاش شروع کی، تاہم اگلی صبح اس کی لاش گھر سے 200 میٹر کے فاصلے پر برآمد ہوئی۔ پولیس نے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر اسے ریپ اور قتل کا معاملہ قرار دیا ہے۔ ایس ایس پی بڈگام، ہری پرساد کے کے کا کہنا ہے کہ میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی جانچ کر رہی ہیں۔
اس واقعے کے خلاف علاقے میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور درندوں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی تکلیف دہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "اس طرح کے واقعات سماج کے لیے سوالیہ نشان ہیں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں جہاں ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں۔" انہوں نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں حکومتی تعاون کا یقین دلایا ہے۔
مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی واقعے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ہر انسان کا ضمیر جھنجھوڑ دیا ہے۔
پولیس نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ قانون کے مطابق متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر نہ کریں اور سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ واضح رہے کہ کشمیر میں بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر سول سوسائٹی میں گہری تشویش پائی جاتی ہے، اور اس تازہ واقعے نے تحفظِ نسواں اور بچوں کی حفاظت کے حکومتی دعووں پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔