سرینگر (نیوز ڈیسک)
مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے جبر و تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج سرینگر کے علاقے بابا ڈیم میں بھارتی پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران دو کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس (APHC) نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں غیر انسانی حالات میں قید کشمیری قیادت اور نوجوانوں کی رہائی کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ ترجمان حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ ہزاروں کشمیریوں کو سیاسی بنیادوں پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیاسی محاذ پر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر ریاست کی مکمل بحالی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ معطلی جیسے وسیع اختیارات دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو بے اختیار رکھنا سیاسی اور انتظامی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ وادی میں اس وقت شدید ڈیجیٹل نگرانی اور سیاسی دباؤ کی لہر دیکھی جا رہی ہے جس کے خلاف عوامی سطح پر خاموش احتجاج جاری ہے۔