اسلام آباد سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد، پاکستان کے ذریعے ایران کی ایک نئی تجویز امریکی حکام تک پہنچا دی گئی ہے۔
ان تجاویز کے مطابق، ایران نے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بحری ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھولنے اور سمندری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تہران کا موقف ہے کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات دوسرے مرحلے میں کیے جائیں، جبکہ اولین ترجیح خطے میں تجارتی گزرگاہوں کی بحالی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے ان سفارتی کوششوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حساس معاملات کو فی الحال میڈیا پر نہیں لایا جائے گا تاکہ مذاکراتی عمل متاثر نہ ہو۔