مظفرآباد (نمائندہ خصوصی): آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ حکومتِ ریاست نے انتخابی عمل کو شفاف اور بہتر بنانے کے لیے الیکشن ایکٹ میں دور رس ترامیم متعارف کروا دی ہیں۔ صدرِ ریاست کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے اس نئے آرڈیننس کے تحت اب پاکستان میں ممنوعہ یا کالعدم قرار دی گئی کوئی بھی سیاسی جماعت یا اس کی ذیلی تنظیم آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد خطے کے امن و امان اور سیاسی ڈھانچے کو بیرونی مداخلت اور غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
مہاجرینِ کشمیر کے لیے بڑی خوشخبری:
آرڈیننس کی ایک اور اہم شق کے تحت 1989 کے مہاجرین کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اب کیمپوں میں مقیم وہ مہاجرین جو اپنی رہائش گاہ تبدیل کر چکے ہیں، انہیں اپنی نئی جائے سکونت پر ووٹ رجسٹر کروانے اور حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔ اس فیصلے کا عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کا سیاسی پاور پلے:
دوسری جانب سیاسی میدان بھی گرم ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے آزاد کشمیر میں مستقل صدر کی تعیناتی کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب آئندہ ماہ کے دوران متوقع ہے، جس کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔
اس وقت اسپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، تاہم اب مستقل صدر کی آمد سے ریاست کی سیاسی صورتحال میں نئی تبدیلیوں کا امکان ہے۔