گلگت (نیوز ڈیسک): گلگت بلتستان کی سیاست میں اس وقت ایک بڑا ہلچل مچ گئی جب اسمبلی کے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ نذیر احمد ایڈووکیٹ نے اپنا تفصیلی استعفیٰ پارٹی کے مرکزی چیئرمین، جنرل سیکرٹری اور جی بی صدر کو ارسال کر دیا ہے جس میں انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
اپنے استعفیٰ میں نذیر احمد ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور گلگت بلتستان کے تنظیمی ڈھانچے کے درمیان رابطوں کا شدید فقدان پیدا ہو چکا تھا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے خطے کے مسائل پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ان کے لیے عوامی سطح پر نمائندگی کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ پارٹی گلگت بلتستان میں اپنی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے میں ناکام رہی، جو کہ ایک سنگین تنظیمی خامی ہے۔
اسپیکر اسمبلی نے تنظیم سازی کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی اور صوبائی سطح پر اہم فیصلے کرتے وقت انہیں قطعی طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا، بلکہ گزشتہ تین ماہ سے ضلعی عہدیداران خود ان کے خلاف منفی مہم چلا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی بی صدر کی سزا اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث پارٹی قیادت کا بحران پیدا ہوا اور کارکنوں کو متحرک کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
نذیر احمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی علیحدہ گروپ کا حصہ بننے یا پارٹی کے اندر اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے وقار کے ساتھ علیحدگی کو ترجیح دی۔ پی ٹی آئی سے استعفیٰ کے فوری بعد انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کر کے 'تیر' کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نذیر احمد کی شمولیت سے جہاں پیپلز پارٹی خطے میں مزید مستحکم ہو جائے گی، وہی پی ٹی آئی کو ایک اہم پارلیمانی اور عوامی چہرے سے محروم ہونا پڑا ہے جس کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔