مظفرآباد (بناہ ٹی وی خصوصی رپورٹ) کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اتوار 4 اکتوبر کو مظفرآباد، پونچھ اور میرپور تینوں ڈویژنوں میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر کشمیری نے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عوام سے اپیل کی ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رکھی جائے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ڈڈیال میں رات گئے اور اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چوہدری عثمان نامی نوجوان جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ کمیٹی کے مطابق مقامی لوگوں نے لاش اپنی تحویل میں لے لی، جبکہ زخمیوں کو ہسپتال سے حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور انتظامیہ کی جانب سے تاحال دادیال کے واقعے پر تفصیلی موقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ضلع کوٹلی میں پولیس کے مطابق چڑھوئی کے قریب کالا ڈب کے مقام پر احتجاج کے دوران سڑک بند کرنے والوں کو ہٹانے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر فائرنگ کی گئی، جس سے کانسٹیبل عبدالرؤف سینے میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
ادھر اسلام آباد میں وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ تحقیقات میں افغانستان سے آزاد کشمیر اسلحہ سمگل کرنے والا ایک نیٹ ورک سامنے آیا ہے اور اس کے بعض افراد کے روابط احتجاجی تحریک سے وابستہ شخصیات سے ہیں۔ ان الزامات کی عدالت میں تصدیق نہیں ہوئی۔ عوامی ایکشن کمیٹی ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اپنی تحریک کو سیاسی و شہری حقوق کی تحریک قرار دیتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پورے کیے جا چکے ہیں، جبکہ کمیٹی اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔